دنیا کا وہ حصہ جہاں قیامت کی ایک بڑی نشانی ظاہر ہوگی

مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق اللہ نے اس دنیا اور اس کائنات کو ایک لپیٹ لینا ہے اور اس کے بعد صرف اللہ کی ذات رہ جائے گی اور پھر اللہ انسانوں اور جنات اور تمام مخلوقات کو زندہ کرے گا اور حساب کتاب ہوگا ۔ اس دنیا کے خاتمہ کو قیامیت کہا جاتا ہے۔ قیامت کب آئے گی اس کے بارے میں صرف اللہ کو علم ہے اور اس کے علاوہ یہ علم کسی کو بھی اللہ نے نہیں دیا ۔ آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اکثر قیامت کے بارے میں سوال کرتے یا پھر آپ ﷺ خود ہی انہیں بتاتے کہ قیامت کب آئے گی ۔ یعنی قیامت کی نشانیاں بتلاتے تھے کہ

جب یہ نشانیاں پوری ہوگی تو قیامت آجائے گی ۔  ا ن میں سے کافی ساری نشانیاں پوری ہو چکی ہے اور کچھ ایسی  ہے جو کہ پوری نہیں ہوئی ۔ ان نشانیوں میں سے ایک نشانی زمین کا دھنسنا ہے رسول ﷺ نے فرمایا کہ تم کس چیز کا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کی کہ ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں، آپﷺ نے فرمایا کہ یقینا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو، پھر آپ ﷺنے ذکر کیا، دھواں، خروج و جال ، خروج وابہ ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ، عیسیٰ ابن مریم کا نزول ، خروج یا جوج و ماجوج ، مشرق ومغرب اور جزیرہ نمائے عرب میں زمین کا دھنس جانا اور سب سے آخر میں جو علامت ظاہر ہو گی وہ یمن سے ایک آگ ہو گی جو لوگوں کو ان کے محشر یعنی شام کی طرف دھکیلتی

ہوئی لے جائے گی۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص تکبرانہ انداز میں اپنی چادر زمین پر گھسیٹتے ہوئے چل رہا تھا، اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ اس میں قیامت تک دھنستا ہی چلا جائے گا۔اس کے بارے میں ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا  ہے کہ یہ نشانی بھی دنیا کے آخری کنارے میں ہوری ہوگئی ہے یہ علاقہ یمل کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ روس کے علاقے سائبیریا کے بالکل آخر میں ہے جہاں شدید قسم کی سردی ہوتی ہے ، اور اس کے ساتھ وہاں کی مقامی آبادی نہایت کم ہے ۔۔ وہاں تیل اور گیس کے بہت

زیادہ ذخائر ہے ۔ اسی بنا  پر وہاں تیل تلاش کرنے والی کمپنیاں جاتی ہے ۔ ایک کمپنی کے ہیلی کاپٹر سے ایک عجیب منظر دیکھا گیا کہ ایک بہت بڑا گہرا گڑھا ہے جو کہ پہلے نہیں تھا اور اس کے علاوہ مختلف مقامات پر بھی یہ گھڑے بنے ہوئے ہیں  ۔ جن کے بارے میں سائنس دانوں کی مختلف آراء ہیں

 

تبصرے بند ہیں.