ایک انگریز عاملہ کو جنات کس شکل میں نظر آتے ہیں ۔ خاتون کا عجیب دعوی

جنات کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ تو بالکل واضح ہے کہ ان کا وجود ہے اور اللہ نے ان کو انسانوں کے ذہن کو متاثر کرنے کی بھرپور قدرت دی ہے ۔ اور ان کی شکل و صورت کے بارے میں بھی احادیث اور تاریخی واقعات موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ کوئی بھی شکل دھار سکتے ہیں ۔ اور اپنی اصلی شکل میں بہت کم دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن ایک خاتون عاملہ جن کا نام لین واکر ہے اس نے دعوی کیا ہے کہ فلموں میں دکھائی جانے والے بھوتوں کی طرح جنات کی شکل حقیقت میں نہیں ہوتی ۔ خاتون کا کہنا تھا کہ میں خود ایک جن کا شکار بنی تھی جس کے بعد میں نے یہ علم حاصل کیا اور اب میں لوگوں کا علاج کرتی ہوں ۔ میرے پاس آنے والوں میں سے اکثریت ذہنی و نفسیاتی بیمار ہوتے ہیں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں

جن کو حقیقت میں جنات کا سامنا ہوتا ہے ۔ کیونکہ جنات ان لوگوں کو تنگ کرتے ہیں اور ان کو مسخر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں لطیف اشیاء کو محسوس کرنے کی قوت ہوتی ہے ۔ ہر ایک کو جنات نہیں چھیڑتے ۔ جیسے فلموں میں بھوتوں چڑیلوں کی شکلیں نظر آتی ہے ایسے جنات ، بھوت پریت ہر گز نہیں ہوتے۔ ۔ بلکہ ان کی شکل آکتوپس ، سٹار فش کے ملغوبے جیسے ہوتی ہے ۔ یعنی کے ان کی شکل کو بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔ آپ ان کو محسوس تو کر سکتے ہیں لیکن بیان نہیں کر سکتے ۔ اس لئے اگر کوئی کہیں کہ اس پر جنات کا سایہ ہے تو اس سے پوچھے کہ کیسی شکلیں دیکھ رہا ہے ۔ اگر وہ ویسی شکل بتاییں جیسے فلموں میں ہوتی ہے تو سمجھ لیں کہ یہ بندہ ڈرامہ کر رہا ہے اور اسے کوئی نفسیاتی بیماری لاحق ہے

تبصرے بند ہیں.